ہے نہ کی قیامت
مقصود حسنی
ابوزر برقی کتب خانہ جون 6102
فہرست صفدر بےفیضا اور امریکی سازش مزاحیہ پہال اور آخری آپشن مزاحیہ ہے نہ کی قیامت مزاحیہ کتا اس لیے بھونکا
مزاحیہ زکراں کی خوش گوئی مزاحیہ وہ اندھی تھی افسانہ کچھ بعید نہیں افسانہ ڈی سی سر مائیکل جان افسانہ پرایا دھن افسانہ
صفدر بےفیضا اور امریکی سازش
اسے اپنی زبان دانی پر بڑا ناز تھا۔ دور دور سے لوگ' علمی و ادبی تعاون کی حصولی کے لیے تشریف التے۔ وہ بساط بھر' ان کی خدمت کرتا۔ مثل معروف چلی آتی ہے' کہ بھلے سے بھلے پڑی ہے۔ وہ اپنی زوجہ ماجدہ سے اس ذیل میں' مار کھا گیا۔ بال کی زبان طراز تھی۔ عموم میں' ایک سانس' انتالیس منٹ خصوص میں' اس کی زبان بردازی کی کوئی حد ہی نہ تھی۔ وہ وہ پلوتے تولتی' کہ شیطان کی رگ وجان سے واہ واہ کے کلمے نکل جاتے ہوں گے۔ ہر سائز کے' زنانہ و مردانہ آالت کے بخیے ادھڑ اکھیڑ کر رکھ دیتی۔ گرج اور گونج دار برس' آنجہانی والد مرحوم سے ورثہ میں پائی تھی۔ هللا انہیں بخشے نہ بخشے' هللا کی مرضی‘ جب بولتے دھرتی کانپ جاتی۔ ہاں البتہ اپنی عزت کی جگہ' بےغم صاحب کی سرکار میں بھ بھیڑ ہو جاتے تھے۔ بیٹی کچھ کم نہ تھی۔ آج رانی توپ ہوتی' تو گرج برس کے معامالت میں' بصد احترام اس کے قدم لیتی۔ اس کے برعکس اس کا میاں کسکتا تک نہ تھا۔
وہ اپنی آواز کی گرج برس میں ہیچ قسمتی سے خوب آگاہ تھا۔ ڈھول کے سامنے توتی کی آواز' مسکین کی میں میں سے کچھ زیادہ نہیں ہوتی۔ بڑے بڑے قلغی بردار' کسی کاغذ پر تقریری پوائنٹس لکھ کر لے جاتے ہیں اور پھر جا کر' تقریر کرتے ہیں۔ کہیں سیکڑوں اور کہیں ہزاروں کا مجمع ہوتا ہے۔ زکراں جی کا کمال یہ ہوتا ہے' کہ انہوں نے پہلے سے کچھ نہیں لکھا ہوتا' سب موقع پر بولتی ہیں۔ رہ گئی مجمع کی بات ‘ ان کے مقوالت و مغلظات سے' پورا عالقہ حظ آلود ہو رہا ہوتا ہے۔ جوان لڑکے لڑکیوں میں' بالغ ہونے کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ خالہ کپتی اگر آج زندہ ہوتی' تو عش عش کر اٹھتی کہ عالقہ میں جانشین' اس کی بھی پیو ہے۔ جو بھی سہی' وہ پنجابی کی ترقی میں اپنے حصہ کا کردار ادا کر رہی تھی۔ پنجابی کو نئے مرکبات' مہاورات' تشبیہات' عصری تلمیحات' مختلف نوع کے عصری حوالے' لفظوں کو نئے مفاہیم وغیرہ فراہم کر رہی تھی۔ بےشک یہ بہت بڑی علمی خدمت ہے' جس کے لیے باطور
پنجابی' اسے اس کا احسان مند رہنا چاہیے باسابقہ لفظ بےبنیادا' جسے رحمان بابا نے بڑے اہتمام سے استعمال کیا تھا' کمال کی روانی میں بک جاتی۔ ان پڑھ ہو کر بھی اتنا باریک و عمیق مطالعہ' حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ اگر صفدر عقل مند ہوتا تو سڑنے کڑنے کی بجائے' اس پنجابی در نایاب کی لفاظی اور لفظوں کی نشت و برخواست پر غور کرتا' تو بہت کچھ سیکھ سکتا تھا۔ پورے پنجاب میں' ایک سے ایک بڑھ کر بوالر ہو گی' لیکن یقین کامل ہے کہ اس سی پہونکی' ڈھونڈے سے نہ مل سکے گی۔ میں محسوس کر رہا ہوں' مرچیں شاید کچھ زیادہ ہو چلی ہیں۔ نمک اور دیگر مصالحوں کی اشد ضرورت ہے۔ اچھا اور پرذائقہ پکوان وہ ہی ہے' جس میں ناصرف نمک مرچ متوازن ہوں' بل کہ دیگر مصالحے بھی متناسب ہوں۔ محترمہ نے فقط چار شوق پال رکھے ہیں۔
کھانا‘ کھانے میں مصالحے اور نمک مناسب ڈالتی ہیں ہاں البتہ مرچوں پر زور رکھتی ہیں۔ زور بھی ضرورت سے زیادہ۔ اتنا زیادہ کہ اوپر نیچے سے' پسینے کے چشمے جاری و ساری ہو جاتے ہیں۔ سونا‘ خوب سوتی ہیں۔ سوتے میں' صفدر اور اس کے متعقین کو' لغویات سے سرفراز فرماتی ہیں۔ پھڈا‘ پھڈے کے معاملہ میں' اس کا موقف گرامی ہے' کہ باوجہ پھڈا' پھڈا نہیں ہوتا۔ اس کا تعلق موڈ سے ہے۔ ایک موڈ اور کیفیت میں نہیں رہا جا سکتا' اس لیے پھڈا ناگزیر ہے۔ چوتھا شوق ڈیش ڈیش ڈیش اہل اخگر یا گوڈویا نما اس ڈیش ڈیش کی تفہیم سے آگاہ ہوں گے۔ صفدر شروع سے' امریکی قیادت کے حق میں نہیں رہا' تاہم وہ دنیا کے ہر شہری کی' عزت کرتا ہے۔ موجودہ واقعے' جس میں امریکی شہری نے' ہم جنسوں پرستوں کو جہنم رسید کیا' کے متعلق اس کا موقف ہے' کہ وہ
امریکہ اور اس کے شہری کا معاملہ ہے' کسی اور کا بھال اس سے کیا لینا دنیا۔ اسے شہری بنانے کے لیے' سرکاری سطع پر نائی نہیں بھیجا گیا ہو گا۔ وہ مسلمان ہے' اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ مسلمان تو دنیا کے ہر خطے میں آباد ہیں۔ یہ ہی صورت دیگر مذاہب سے متعلق لوگوں کی۔ اگر کوئی عیسائی غلطی' خرابی یا اپنے نظریے کے خالف کی' سرزنش کرتا ہے تو اس کا مدا' مسلمانوں پر کیسے ڈاال جا سکتا ہے۔ اگر کسی نے' ایسا کرنے کے لیے قاصد بھیجا ہے' تو اس مدے پر بات کرنا بنتی ہے۔ کچھ سال پہلے' صفدر کی بہن نے' زبردستی یہ رشتہ کرایا تھا۔ صفدر بار بار منع کرتا رہا' تو اس کی بہن نے جوابا کہا :تم نبی ہو جو بالدیکھے اور جانے' نہی کا فتوی جاری کر رہے ہو۔ اب وہ ہی' ڈرتی صفدر کی گلی سے گزرتی تک نہیں۔ سوئے اتفاق' آ جائے تو کسکتی تک نہیں۔ اپنی اصل میں بات کوئی اور ہے۔ امریکہ سے بغض و عناد' اسے لے ڈوبا ہے۔ یہ پتھر پر لکیر ہے کہ یہ درپردہ امریکی سازش ہے کہ زکراں کو' صفدر کے گھر میں پالنٹ کرنے میں'
اس کی اپنی بہن کو استعمال کیا گیا۔ حیضرت امریکہ بہادر کے ہاتھ بڑے لمبے ہیں۔ صاحب جاہ کے ہاتھ ہمیشہ سے لمبے رہے ہیں۔ آج حیضرت امریکہ بہادر کے چرنوں میں سر رکھ دے' دودھ مالئی ملے گی' ڈالر بھی ملیں گے۔ ضمیر کا کیا ہے' ہزاروں سال سے بکتا آ رہا ہے۔ بک رہا ہے' بکتا رہے گا۔ کائنات ضدین پر استوار ہے۔ صبح کے ساتھ شام' جہاں خیر ہے' وہاں شر باوزن موجود رہتی ہے۔ سفیدی' سیاہی کی من بھاتی کھا جا ہے۔ زندگی دنداناتی ہے' لیکن موت اسے ساکت وجامد کرکے رکھ دیتی ہے۔ اسی تناظر میں' اس کی محبت اور تعلق کے' شروع سے دو اسلوب رہے ہیں۔ خیر کے لیے محبت و احترام' جب کہ شر کے لیے نفرت' بل کہ شدید ترین نفرت۔ ان کے ابا حضور خلد قیامی نبی نہیں تو ناسہی' قطب ابدال ضرور تھے' اس لیے ان کے باقیان الئق عزت و احترام ہیں۔ جبی جب ان کی والدہ پدارتیں ہیں' تو انہیں چا چڑھ جاتا۔ صفدر کا کوئی ڈرتے آتا ہی نہ تھا۔ اگر کارقضا آ جاتا
ہے' تو صفدر کی جان لبوں پر آ جاتی ہے' مبادا کچھ غلط ہو گیا تو کئی دن بنے۔ اس ذیل میں' اس کے تلفظی دو بانٹ ہیں۔ امی ہوریں آئی تھیں۔ تمہاری فالں ففے کٹن آئی تھی۔ اس کا اقوال زریں ہے :صفدر تو ہے ہی بےفیضا قول کی جگہ اقوال اس لیے استعمال کیا گیا ہے' کہ اس کا ایک قول' کئی قولوں پر بھاری اور کئی قولوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس اقوال ارسطوی کے پیچھے' ایک چھوڑ دو جواز رکھتی ہے۔ اول :جب کوئی صفدر کا آتا ہے' چائے پانی سے تواضح کرتی ہے۔ یہ الگ بات ہے' کہ اس کا کوئی آتا ہی نہیں۔ پہلے ابا ہجور آتے تھے' جاتے ہوئے بےچارے کچھ ناکچھ لے جاتے تھے۔ اب امی ہوریں اور ان کے متعلقین
آتے ہیں' البتہ جاتے ہوئے کچھ ناکچھ لے جانا نہیں بھولتے۔ وہ ابا ہجور کے قدموں پر ہیں۔ دوئم :سورگ باسی ابا ہجور کی موت پر' صفدر کو چائے اور بسکٹ سرو کیے گیے۔ یہ بات الگ سے ہے کہ چائے اور بسکٹ' اوروں نے بھی نوش جان کیے تھے۔ صفدر تنہائی میں روتا ہے‘ کیا فائدہ ۔۔۔۔۔ وقت گزرا نہیں‘ حیضرت امریکہ بہادر کے قدم لے۔ عین ممکن ہے کہ کوئی پھٹی پرانی چٹی مل جائے۔ ڈالرہا کے ہوتے' کوئی نئی دیسن مل سکتی ہے۔ پہلے موجودوں کو' موجود سے بڑھ کر میسر آ جائے گا۔ یہ بھی راضی' نئی بھی راضی اور عہد رفتہ کے بھی راضی۔ صفدر ہے ہی بےفیضا ‘ جو زمین کی بڑی سرکار کا ناشکرا ہے۔ سرکار کی ناشکری سے بڑھ کر' اس کے غلط ہونے کا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے۔ ............... بہت اعلی تحریر ہے حسنی صاحب لطف آ گیا۔ کیا کیا منظر
کشی اور کردار نگاری کے کماالت دکھائے ہیں کہ جواب نہیں اور مزاح کا تو اپنا ہی انداز ہے۔ بہت سی داد پی ِش !خدمت ہے ڈاکٹر سہیل ملک http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=10260.0
پہال اور آخری آپشن
جو حق سچ اور انسانی فالح و خدمت کو شعار بنائے‘ الئق عزت و احترام ہے۔ سقراط اس حوالہ سے‘ یونان کا ہی نہیں‘ پوری انسانی برادری کا ہیرو ہے۔ علم و فضل میں کمال رکھتا تھا۔ وقت کے عالم فاضل یہاں تک کہ دیوتا بھی‘ اس کی اہلیت اور بلند فکری کے قائل تھے۔ ہر الجھا معاملہ‘ اس کی طرف پھیرتے۔ اتنے بڑے شخص کو وقت کی بےہدری قوت کھا گئی لیکن سقراط اور اس کی عظمت کے نشان نہ مٹا سکی۔
کہتے ہیں اس کی بیوی بولتی تھی اور بےتحاشا بولتی تھی۔ بولتے بولتے بےہوش جاتی۔ پھر سقراط دوا دارو کرتا‘ تو ہوش میں آتی۔ ایک بار اس نے پوچھا ‘ میں اتنا بولی تم کیوں نہیں بولے۔ جوابا سقراط نے کہا‘ میرے حصہ کا تم بول چکی ہو‘ میں کیا بولتا۔ بیگم سقراط کو حسن کی بدہضمی تھی۔ طاقت کو‘ شروع سے میں کی بدہضمی رہی ہے‘ تب ہی تو جب بولتی ہے‘ روزن پشت سے بولتی ہے۔ حضور کریم لملسو ہلص نے دھیمی بااخالق آواز میں گفت گو کرنے کی ہدایت فرمائی۔ اس کے پیچھے فلسفہ یہ ہے کہ بولنے میں جسم کے بہت سے اعضا ملوث ہوتے ہیں۔ مثال پھیپھڑے‘ دل‘ سانس کی نالی‘ گال‘ زبان‘ دونوں جبڑے‘ منہ کے زریں و باالئی حصے‘ سر کے اعصاب‘ کندھے کے اعصاب‘ جبین کے اعصاب‘ نتھنے‘ آنکھیں‘ اطراف کی کن پٹی‘ دو ہاتھ اور بازو‘ سپائنل کارڈ وغیرہ۔ گویا بلند آوازی نقصان دہ ہے۔ اسی تناظر میں غصہ کو حرام قرار دیا گیا۔
زکراں کی آواز کی بلند پروازی قابل حیرت ہے۔ صفدر بھی منہ میں زبان رکھتا ہے‘ بول سکتا ہے‘ کیوں نہیں بولتا۔ یقینا بہت بڑا سوالیہ ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ ایک کے مقابلے میں سو سننا پڑتیں تو بھی بولتا۔ یہاں معاملہ برعکس ہے۔ ایک کا دس ہزار سے کیا مقابلہ۔ اوپر سے ٹائم کی کوئی قید نہیں۔ آلو کے مفاہیم الو لیے جائیں تو کچھ کہا سنا ہی نہیں جا سکتا۔ ایک بار اس نے کہا‘ کتنا بول چکی ہو‘ اب چپ ہو جاؤ۔ اس نے جوابا کہا‘ میں اپنے منہ سے بولتی ہوں‘ تمہارے منہ سے نہیں بولتی۔ جواب معقول تھا۔ اسے چپ لگ گئی۔ دوسرا اس کے تو صرف دونوں کان ملوث تھے۔ وہ بھی متضاد کردار ادا کرتے تھے‘ یعنی ایک سے سنتا تھا تو دوسرے سے نکالتا تھا۔ یہ منافقت نہیں‘ نظریہءضرورت کے تحت تھا۔ کوئی ضرورت کی چیز النے کو کہتی‘ تو ال کر دیتا تھا۔ یہ بھی کہ اس قسم کی بات دوسرے کان سے نکالنے بھی نہیں دیتی تھی۔ صفدر مہامنشی ہاؤس کا کارندہ نہ ہو کر‘ کارندہ سا بن گیا تھا۔ مہامنشی ہاؤس‘ ایک چپ اور سو سکھ کا قائل ہے۔
جتنی مرضی درخواستیں گزر لو‘ اپنی جان کو رو پیٹ لو‘ جو مرضی کر لو‘ ان کا چلن نہیں بدلتا۔ ان کے ہاں کوئی کچھ نہیں۔ وہاں جاؤ باؤ بادشاہ کے قدم لو‘ کھیسہ گرم کرو اور واپس چلے آؤ‘ پھر آنیوں اور جانیوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ مالزم کی اے سی آر انتہائی خفیہ دستاویز ہے۔ پرموشن کے وقت‘ مالزم کو خود مہیا کرنی پڑتی ہے۔ اس سے بڑھ کر چپ کا دور دورہ کیا ہو سکتا۔ صفدر بےچارا عزت بچانے کی خاطر‘ بےعزتی کروا لیتا ہے اور چپ کا روزہ رکھ لیتا ہے۔ اس کے پاس کوئی دوسرا آپشن ہے ہی نہیں۔ مہامنشی ہاؤس والوں کے پاس بھی‘ وصولی ہی پہال اور آخری آپشن ہے۔
ہے نہ کی قیامت
بعض باتیں معمولی اور اکثر الیعنی سی ہوتی ہیں‘ لیکن جانتے ہوئے بھی کہ عملی زندگی سے خارج ہیں‘ دھائی کا
دکھ دیتی ہیں۔ ہم یہ امر جانتے ہوئے بھی کہ مقتدرہ طبقے‘ کہنے اور کرنے کو‘ دو الگ الگ خانوں میں رکھتے ہیں‘ ان کے کہے پر آس کے دیپ جال لیتے ہیں۔ جب کچھ نہیں ہوتا‘ بے صبرے بل کہ بڑے ہی بے صبرے ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ ضروری ہے کہ جو کہا جائے‘ وہ کیا بھی جائے۔ مقتدرہ طبقے‘ بعض باتیں محض ردعمل دیکھنے کے لیے کرتے ہیں۔ لیاقا‘ نمبردار پچھلے دنوں میلے پر گیا۔ جوتا پرانا تھا‘ هللا رکھے کا نیا پہن کر چال گیا۔ واپسی پر کہنے لگا :اس بار میلے پر جوتے بہت گم ہوئے ہیں۔ پوچھا گیا :تم اپنے جوتوں کا کہو۔ ہنس کر کہنے لگا :وہ تو پہلے ہلے میں گیے۔ شادی کے ابتدائی دنوں میں‘ سالیاں جوتے چھپاتی ہیں‘ اب مسجدوں میں یہ رسم سالے انجام دینے لگے ہیں۔ ہر دو صورتوں میں نقصان ہوا ہوتا ہے‘ المحالہ متاثرین کو‘ دکھ اور رنج ہوتا ہے۔ تاہم سننے والے‘ بالدام انجوائے کرتے
ہیں۔ انجوائے کرنا‘ ہر کسی کا آئینی حق ہے۔ اب دوسری طرف دیکھیے‘ جب بجلی جاتی ہے زوجہ ماجدہ‘ خوب گرجتی برستی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بجلی میں بند کرتا ہوں یا میرے حکم سے بند ہوتی ہے۔ یعنی اس ذیل میں میں ہولی سولی بااختیار ہوں۔ بڑی قلبی تشفی سی ہوتی ہے۔ پسینے میں غرق ہوتے ہوئے بھی‘ فخروناز سے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھتا ہوں۔ یہ بات قطعی الگ سے ہے کہ واپڈا والے‘ سنتے ہی نہیں ہیں۔ کہیں کوئی تار ٹوٹ جائے‘ تو پورا محلہ اندھیروں میں ڈوبا ہوتا ہے۔ جو مرضی کر لو‘ وہاں کوئی سنتا ہی نہیں۔ محلے کے جوان لڑکوں کا بھال ہو‘ بچارے جھولی پھیر کر چندہ اکٹھا کرتے ہیں‘ مٹھی گرم ہونے کے تھوڑی ہی دیر بعد‘ یعنی دو چار گھنٹے میں بلبوں اور پنکھوں کی جان میں جان آتی ہے۔ مجھ سے بہت سے بےقیمت مرد حضرات‘ بجلی والوں پر کانوں تک خوش ہوتے ہیں‘ بجلی کا بل تو انہیں دینا پڑتا ہے۔ اگر زوجہ حضور کے‘ فضول بجلی نہ جالنے کی
درخواست گزارو‘ تو کھری کھری سننا پڑتی ہیں۔ لمبے چوڑے قصے لے بیٹھتی ہے کہ دیکھو فالں کے گھر‘ دو اے سی لگے ہوئے ہیں۔ وہ ہر ماہ میٹر ریڈر کی خدمت کر دیتے ہیں۔ تم تو ہو ہی نکمے‘ زندگی بھر تم سے کوئی ڈھنگ کام نہیں ہوا۔ چند ساعتوں کی گرمی کے مداوے کے عوض‘ قیامت کی گرمی برداشت کروں‘ یہ سودا بڑا ہی مہنگا ہے۔ میں ایسی سہولت پر ہزار بار لعنت بھیجتا ہوں۔ کچھ لوگوں کے اندر حرام کھا کھا کر جہنم فٹ ہو گیا ہوتا ہے‘ اسی لیے مصنوعی ٹھنڈک کا سہارا لیتے ہیں۔ اس قسم کی کی چخ چخ ‘ کسی پٹھان یا سردار سے متعلق لطیفے کی ضرورت سے‘ بےنیاز کر دیتی ہے۔ یہاں ایسی لطف افروزی کا کوئی ایک واقعہ ہو تو ذکر بھی کیا جائے۔ مرغی کے انڈے چھوٹے ہوں‘ تب بھی روال پڑ جاتا ہے۔ گمان گزرنے لگتا کہ یہ انڈے میں نے دیے ہیں۔ اس قسم کی باتیں سن کر‘ مہینے بعد کڑک بیٹھنے کی حاجت محسوس ہونے لگتی ہے۔ مجھ سے پنشنر اور بڈھے حضرات آدھ مہینہ بعد ہی کڑک بیٹھ جاتے ہیں۔ گھر والے اسے بیماری کا نام دے دیتے ہیں۔
سبڑی سباڑی کے لیے پیسے نہیں ہوتے‘ پرائیویٹ ڈاکٹروں کے ہاں یاترا کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سرکاری ہسپتال‘ جو ہسپتال کم‘ کانجی ہاؤس زیادہ ہیں‘ وہاں کے باسی صم بکم ہوتے ہیں۔ سب سے بڑی دیا یہ ٹھہرتی ہے کہ الہور لے جاؤ۔ مقامی کے لیے گرہ میں مال نہیں‘ الہور کیسے لے جائیں۔ ناچار گھر لے آتے ہیں۔ پھر کسی عطائی کے سپرد کرکے‘ قسمت پر ڈوری چھوڑ دی جاتی ہے۔ ہزار بار کہہ چکا ہوں‘ فکر نہ کیا کرو‘ میں مہینے بعد کڑک بیٹھتا ہوں۔ وہ اپنی جگہ سچے ہیں‘ چھوٹے سہی‘ انڈے تو کھا چکے ہوتے ہیں۔ انڈوں کے نہ ہونے کے سبب‘ میرے کڑک بیٹھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ میں تو آرام سے کڑک بیٹھ جاتا ہوں‘ خجل اور ذلیل وخوار وہ وچارے ہوتے ہیں۔ خیر اس امر کی انہیں تسلی رہی ہے کہ انڈے لمبڑ کے ڈیرے یا کسی غیر کے ہاں نہیں‘ اپنے ہاں دیتا ہوں۔ چھوٹے ہوں یا بڑے‘ دیتا تو ہوں۔ سارا مہینہ نہیں‘ بس دو چار بار ہی ہے نہ پڑتی ہے۔ دو چار بار کی ہے نہ کی قیامت‘ میں ہی
بھتگتا ہوں۔ اگر کڑک بیٹھنے کی مجبوری ختم ہو جائے اور مرغیاں مرد حضرات کی مجبوری پر ترس کھاتے ہوئے‘ انڈے بڑے دیا کریں‘ تو دس فیصد بڑھوتی کے تکلف کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہو گی۔
کتا اس لیے بھونکا
ملکیت میں کوئی کم یا زیادہ قیمت کی چیز‘ جہاں ذی روح کو اس کے ہونے کا احساس دالتی ہے‘ وہاں اس میں تکبر کا عنصر بھی سر اٹھا لیتا ہے۔ یہ الگ بات ہے‘ کہ فرعون کو یہ میں لے ہی ڈوبی۔ وہ تاریخ تو الگ رہی‘ الہامی کتب میں بھی مردود اور قابل دشنام قرار پایا۔ یہ سب جانتے ہیں‘ انسان کی ملک میں کچھ بھی نہیں۔ اصل مالک هللا کی سوہنی اور سچی ذات ہے۔ سب کچھ اسی کی طرف پھرتا ہے۔ ملکیت کی چیز‘ چھن سکتی ہے
کسی خرابی کا شکار ہو سکتی ہے۔ کسی وقت بھی حادثے کی نذر ہو سکتی ہے بالوجہ ریورس کے عمل میں داخل ہو سکتی ہے۔ موت تہی دست کر دیتی ہے۔ جب یہ طے ہے کہ انسان کا ذاتی کچھ نہیں‘ تو کچھ ہونے کی صورت میں‘ تشکر باری سے منہ موڑ کر تکبر کی وادی میں قدم رکھنا‘ جائز نہیں بنتا۔ اچھی کرنی اچھی کہنی ہی امرتا کا جام نوش کرتی ہے۔ کہاں ہے مقتدر یا مال ابو عمر حمادی کسی کو معلوم تک نہیں کہ یہ کون ہیں‘ منصور کو ہر کوئی جانتا ہے۔سقراط کو کس بدبخت بادشاہ نے موت کے گھاٹ اتارا‘ اس کا کوئی نام تک نہیں جانتا۔ سقراط کو کون نہیں جانتا۔ کل میں انٹرنیٹ پر سرمد شہید کا مزار دیکھ رہا تھا‘ پھول اور عقیدت مند موجود تھے۔ اورنگ زیب بادشاہ تھا‘ مقبرہ تو بن گیا‘ وہاں ویرانیوں کا پہرہ تھا۔ مجھے تکبر اورعجز کا فرق محسوس ہو گیا۔
انتقام لینا ناجائز نہیں‘ ہاں البتہ معاف کر دینا‘ کہیں بڑھ کر بات ہے۔ جیسے کو تیسا‘ بہرطور رویہ موجود رہا ہے۔ انو‘ بڑا ہی مذاقیہ ہے۔ روتے کو ہنسا دینا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ یہ ہی کوئی پان سات دن پہلے کی بات ہے‘ گلی میں سے گزر رہا تھا کہ شرفو درزی کا کتا بال چھیڑے‘ اس پر بھونکنے لگا۔ وہ نیچے بیٹھ گیا اور جوابا بھونکنے لگا۔ کتا چپ ہو گیا اور اسے بٹر بٹر دیکھنے لگا۔ شاید پہلی بار‘ عجب قسم کا ہم جنس دیکھنے کو مال تھا۔ میں نے پوچھا :یار تم ادھر لینے کیا گیے تھے۔ اوہ جی جانا کیا تھا‘ بہن کے گھر آٹا لینے گیا تھا۔ مل گیا۔ جی ہاں‘ مل گیا۔ میں کون سا پہلی بار گیا۔ مل ہی جانا تھا۔ میرے اندر عرفی کا یہ مصرع‘ مچلنے لگا۔ آواز سگاں کم نہ کند رزق گدا را کتا غالبا بل کہ یقینا‘ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے۔ پاگل کسی غیر کے سامنے دست سوال دراز کرنے کی بجائے‘
رب سے کیوں نہیں مانگتے۔ خیر انو تو ایک طرف‘ ہماری دفتر شاہی ہو کہ محالتی دنیا‘ کاسہ تھامے نظر آتی ہے۔ مولویوں سے کیا گلہ‘ جو درس میں پڑھنے والے بچوں کو‘ گھر گھر مانگنے بھیجج دیتے ہیں۔ دست سوال دراز کرنے والے ذلت اٹھاتے ہیں‘ سو اٹھا رہے ہیں۔ زکراں کا باپ‘ توڑے بھر سامان لے جاتا‘ تو بابے فجے کآ ناہنجار کتا ضرور بھونکتا۔ چوروں اور بھرے کھیسے والوں پر کتے ضرور بھونکتے ہیں اوریہ فطری امر ہے۔ ہمارے ہاں کے لوگ‘ میمیں کرتے آ رہے ہیں۔ داماد یا داماد کے ملک کے وسائل سے البھ اٹھانا‘ ان کا آئینی حق ہے۔ یہ سب صفرر ہی تو ہیں ‘ جو مصلحت کی صلیب پر مصلوب ہو رہے ہیں۔ ایک کی ککرے آمیز بینائی‘ بہت سوؤں کے گوڈوں گٹوں میں بیٹھتی ہے‘ سو بیٹھ رہی ہے۔ کسی کم زور پر کتے کا بھونکنا‘ بہ ظاہر حیرت سے خالی نہیں۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں‘ کتے کم زورں پر بھونکے
اور ان کی جانب لپکے ہیں۔ کم زوروں کے پاس بہت زیادہ ناسہی‘ ان کا کھیسہ خالی نہیں رہا۔ سومنات کا مندر یوں ہی نہیں توڑا گیا‘ اس میں منوں سونا تھا۔ زہے افسوس ‘ فردوسی سے چوری خور لوگوں نے ایک لٹیرے کو نبی قریب کر دیا۔ اصل حقائق پس پشت چلے گیے۔ مائی چراغ بی بی بیس سال سے رنڈیپا کاٹ رہی تھی۔ اس کے کردار پر انگی رکھنا‘ بہت بڑی زیادتی ہو گی۔ بےچاری تھکے قدموں گلی میں سے گزر رہی تھی۔ گلی کا عام آوارہ بدبخت کتا پڑ گیا۔ گرنے کو تھی کہ پیچھے شیدے تیلی نے سمبھاال دے دیا۔ دعا دینے کی بجائے‘ بولنا کیا‘ نوکیلی اور دھار دھار آواز میں بھونکنے لگی۔ بڑھاپے میں بھی یہ زناٹا‘ ارے توبہ۔ اس کی پوترتا کو سالم و پرنام۔ بڑھاپے کی جو بھی صورت رہی ہو‘ لگی ہونے کا احساس پوری شدت سے موجود تھا۔ کتا اس لیے بھونکا‘ کہ اس کے ہاتھ میں کلو بھر گوشت کا شاپر تھا۔
زکراں کی خوش گوئی
زکراں نے' ایک مرتبہ اپنے خاوند کی شدید عاللت اور اس کے ہوش میں آنے پر' بالتیمارداری اور زبانی کالمی ہی پوچھے بغیر' بڑا حیرت انگیز بیان جاری فرمایا۔ جو دو حوالوں سے بڑی اہمیت کا حاملہ ہے۔ اس کے بیان سے' یہ کھل کھال کر سامنے آ جاتا ہے بیمار ہونے کا بھی ایک مخصوص پیمانہ ہے۔ موجودہ میڈیکل سائینس کی ترقی' محض ایک فراڈ سے زیادہ نہیں اور میڈیکل سے متعلقین کی' موج لوائی کا ٹیکنیکل بہانہ ہے۔ اس نے بصد قہر مع غضب ارشاد فرمایا تم نے ڈرامہ رچایا ہے۔ تمہیں تو کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔
دیکھو بیمار میرے ابا جنت مکانی ہوئے تھے' میرے ابا بیمار ہوئے تو چل بسے۔ اس کا مطلب یہ ہوا' جو بیمار ہونے کے بعد بچ جائے' وہ بیمار ہی نہیں ہوتا' وہ صرف اور صرف بیمار ہونے کا ڈھونگ مچا رہا ہوتا ہے۔ اگر بیمار ہوا ہوتا' مر نہ جاتا۔ بیماری کے بعد موت نہیں آتی تو بیماری' بیماری ہی نہیں' حقوق سے فرار کی ناکام کوشش ہے۔ خاوند حضرات پر الزم آتا ہے کہ وہ' زوجاتی حقوق سے فرار کی بجائے کاروبار کی راہ پکڑیں۔ اگر بیمارہونے کا اتنا ہی شوق روح و قلب و بھیجا میں مچلتا ہو تو' زکراں کے والد کی پیروی میں' قبر کو بھی خدمت کا موقع دیں تا کہ بیوہ پر' لوگوں کو مختلف نوعیت کے ترس کھانے کے مواقع میسر آ سکیں۔ ............. واہ جناب حسنی صاحب لطف آ گیا۔ تراکیب بھی بہت پسند
!آئیں شکریہ والسالم ڈاکٹر سہیل ملک http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=10257.0
وہ اندھی تھی وہ لنکویل قبیلے کا سانپ کم' چھالوہ زیادہ تھا۔ دوسرا حجم اور لمبائی چوڑائی میں بھی' جہنمی بال لگتا تھا۔ کسی ایک جگہ ٹھکانہ رکھتا تو گرفت کا کوئی ناکوئی رستہ ضرور نکل آتا' مصیبت تو یہ تھی کہ اس کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہ تھا۔ لوگ سوچ میں تھے' آخر کہیں ناکہیں آرام تو کرتا ہو گا۔ یہ بال' پتا نہیں اچانک کیوں نازل ہو گئی تھی۔ عالقے کے سربراہ مہاراج چرچی ناتھ کی آمد اچانک نہ تھی' اس کے پیچھے ایک عوامی خون خوار تاریخی
پس منظر تھا۔ اس سپرپاور' جس کے سامنے عالقے کے پھنے خاں بھی' قطعی مجبور وبےبس تھے۔ گھروں میں بیٹھے' ان پر ہراس کے موسم کی کپکپی طاری تھی۔ وہ گھریلو مویشیوں کے لیے بھی' عذاب بن گیا تھا۔ نر مویشی جان سے جاتے' جب کہ مادہ مویشیوں کا دودھ نچوڑ لیتا۔ جسے ڈستا پاؤں پر ٹکی ہو جاتا۔ جگہ جگہ الشیں بکھری پڑی تھیں۔ بو اور تعفن سے' سانس لینا محال ہو گیا تھا۔ عالقے کے ہر چھوٹے بڑے کو' بےچارگی اور بےبسی کا یہ عالم' مایوسی کے دروازے تک لے آیا تھا۔ ذاتی اور اجتماعی طور پر' غوروفکر کیا جا رہا تھا لیکن کوئی حتمی حل ہاتھ نہیں لگ رہا تھا۔ زبانی جمع خرچ بہت ہوا' مگرمیدان میں کوئی اترنے کے لیے تیار نہ ہو رہا تھا۔ کون اترتا' جان ہر کسی کو پیاری تھی۔ ایک دوسرے سے توقع' وابستہ کی جا سکتی تھی یا پھر کسی غیبی مدد کا انتظار کیا جا سکتا تھا۔
کئی دن گزر گئے' کچھ نہ ہو سکا۔ بھوک پیاس اور تعفنی گھٹن سے' موتیں ہو رہی تھیں۔ انسانوں اور مویشیوں کی الشیں ٹھکانے نہیں لگ رہی تھیں جس کے باعث' باہر کی بدبو تو تھی ہی' گھروں میں بھی بدبو پھیل گئی تھی۔ ہر کسی کا منہ لٹکا ہوا تھا۔ کمزوری کے سبب جیتے جاگتے انسان' چلتی پھرتی الشیں لگ رہے تھے۔ ایک دن دوسری والیت سے آنے واال گامو سوچیار' چونکا دینے والی خوش خبری الیا۔ اس نے بتایا ادھر شہاب دین کے کھیت میں' ایک لنکویل قبیلے کا اژدھا' ایک مریل اور کرم خوردہ کتے کے منہ میں' بےبسی کے عالم میں' پیچ و تاب کھا رہا ہے۔ یہ سننا تھا کہ لوگ' گامو سوچیار سے لپٹ گئے۔ پھر لوگ' شہاب دین کے کھیت کی جانب دوڑ پڑے۔ یہ دینو نائی کا بیمار کتا تھا۔ سانپ کے درمیان' اس کے دانت گڑے ہوئے تھے۔ سانپ آدھا ادھر آدھا ادھر بےبسی کے عالم میں' چھٹکارے کی کوشش میں تھا۔ وہ بار بار اسے ڈس رہا تھا۔ ہر ڈنگ' ہیروشیما پر پر گرے بم سے' کسی طرح کم نہ تھا۔ الٹا سیدھا ہو کر ڈرون
گرا رہا تھا۔ مگر کہاں' کچھ بھی نہیں ہو پا رہا تھا۔ اصول یہ ہی رہا ہے' طاقت سے ہر کوئی دور ہی رہا ہے اور اسی میں' عافیت خیال کرتا رہا ہے۔ اس رویے کے سبب' طاقت کو شہ ملی ہے اور عالقے میں دندناتی پھرتی ہے۔ ہر سامنے آنے واال ' کم زور یا طاقتور' جان سے جاتا ہے' تاہم ایک کی بلی اوروں کی نجات کا سبب بنتی ہے۔ دینو کا کتا' ادھر سے گزرا ہو گا۔ اس گستاخی کی سزا میں' اس پر فرار کے چاروں رستے بند کر دیے گیے ہوں گے اور اس پر ترس کھانے کی بجائے' جھپٹ پڑا ہو گا۔ موتی کا پہلے داؤ لگ گیا ہو گا۔ ڈنگ لگنے سے اس کی موت واقع ہو گئی ہو گی اور اکڑاؤ آ گیا ہو گا۔ اب اس کی کون اور کیوں مدد کرتا۔ تکبر تماشا بن چکا تھا۔ طاقت عبرت نہیں لیتی کیوں کہ وہ اندھی ہوتی ہے۔
کچھ بعید نہیں
میں ایک دفتر میں مالزم ہوں۔ سارا دن‘ بہت سے سائل یا ان کے سفید پوش اور چرب زبان دلے دالل‘ جنہیں شورےفا کی زبان میں ایجنٹ کہا جاتا ہے‘ مک مکا کرتے‘ چائے پانی پالتے لگاتے اور دو طرفہ مسکراہٹ میں اپنی راہ لیتے۔ ہم لوگ‘ ایک دوسرے کی جان پہچان میں ہیں۔ ناگہانی حاالت میں‘ آنکھوں کی زبان میں‘ کافی کچھ کہہ سن لیتے ہیں۔ مقامی افسر بھی‘ ان سے ناواقف نہیں ہیں۔ آنکھوں کی زبان کا استعمال‘ کسی باال افسر کے آنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ بس ایک جعلی سی پردہ داری ہے۔ حاالں کہ آنے والے کے ہاں‘ یہاں سے کہیں بڑھ کر‘ انھی مچی ہوتی ہے۔ ماہنانہ لفافے کی ترسیل کی‘ ہم میں سے کوئی ڈیوٹی انجام دیتا ہے۔ بس ایک بھرم سا چال آتا ہے۔ کہیں کھال اور کہیں فی صد بھی طے ہے۔ عموم میں‘ لفافہ ہی متحرک رہتا ہے۔ گویا ہم دفتر والے‘ گردوپیش‘ باال دفاتر اور دفاتر سے منسلک دلے داللوں کے مزاج‘ رویے اور اطوار سے خوب آگاہ ہیں۔ دفتر آتے جاتے‘ ایک چھوٹے قد کے شخص سے مالقات
ہوتی رہتی تھی۔ وہ کسی دفتر کا مالزم نہیں تھا‘ کیوں کہ میں مقامی دفتر کے ہر مالزم سے واقف ہوں۔ وہ یقینا کسی دفتر کا مستند دال تھا۔ جب ملتا‘ ہاتھ اٹھا کر‘ بڑے ادب سے سالم کرتا۔ میں بھی خوش خلقی سے سالم کا جواب دیتا۔ یہ دال حضرات بڑے عجیب واقع ہوئے ہیں۔ چغلی اور مخبری میں بھی کمال کے ماہر ہوتے ہیں۔ بہت سے‘ میر جعفر کے بھی پیو ہیں۔ کھٹی بھی چغلی مخبری کی کھاتے ہیں۔ یہ اس قماش کا دال نہ تھا۔ باادب سالم بھی حفظ ما تقدم کرتا تھا‘ کہ کبھی اور کسی وقت بھی‘ کوئی کام پڑ سکتا تھا۔ اس قسم کے باادب سالم‘ کام نکلوانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ وہ مجھے نہیں جانتا تھا۔ میں کام کی وصولی میں بڑا سخت اور کورا واقع ہوا ہوں۔ میرے اس اصول سے‘ اپنے پرائے خوب خوب آگاہ ہیں۔ سالم دعا کے حوالہ سے‘ رو رعایت کو دو نمبری سمجھتا ہوں۔ اگر رو رعایت سے کام لیتا تو اتنی بڑی جائیداد کبھی بن نہ پاتی۔ ایک دن مال‘ بڑے رومنٹک اور مالپڑے سے موڈ میں تھا۔
میرے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ میں نے ہنس کر کہا‘ بھئی خیر تو ہے‘ کوئی کام تو نہیں۔ سالم دعا اپنی جگہ‘ لیکھے میں بااصول ہوں۔ ہنس پڑا اور کہنے لگا :سرکار میں جانتا ہوں۔ تو کہو‘ کیا کام ہے۔ سرکار بڑی نفیس اور شان دار بکری ہاتھ آئی ہے۔ طبیت راضی ہو جائے گی۔ صرف اور صرف ایک ہزار میں۔ میں حیران ہو گیا۔ کیسا بندہ ہے۔ بکری میں نے کیا کرنی ہے۔ پھر خیال گزرا‘ ایک ہزار میں مل رہی ہے‘ لے لیتا ہوں۔ چار دن چھوٹا گوشت کھائیں گے۔ صاحب اور پھر مخصوص احباب کی دعوت بھی کر لوں گا۔ میں نے ہنس کر پوچھا :ایسی ویسی تو نہیں۔ ایسی ویسی سے میری مراد چوری کی تھی۔ ہوتی بھی تو کیا فرق پڑتا‘ مجھے تو ایک ہزار میں مل رہی تھی۔ :بےغیرت سی ہنسی میں کہنے لگا نہیں سرکار‘ نمبر ون ہے۔ پھر اس نے کئی نام گنوائے‘ جو پانچ وقتے اور مونچھ
چٹ تھے۔ اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ سرکار مزا نہ آئے تو پھر کہنا۔ جب اس نے یہ بات کہی‘ تو بکری کا مفہوم سمجھ میں آیا۔ مجھے افسوس ہوا‘ کہ میں داللوں کی ہر اصطالح سے آگاہ ہوں۔ یہ اصطالح‘ میرے لیے قطعی الگ سے تھی۔ دوسرا گشتوڑ اور بکری کی مماثلت میرے لیے قطعی نئی تھی۔ میں مانتا ہوں‘ رشوت ٹھوک کر لیتا ہوں لیکن زانی نہیں ہوں‘ ورنہ رشوت خور زانی اور گھونٹ نہ لگاتا ہو‘ بھال کیسے ہو سکتا ہے۔ مجھے اس پر بڑا تاؤ آیا۔ میں نے پوچھا :تمہاری کوئی جوان بہن بھی ہے۔ کہنے لگا :جی ہاں تو اسے لے آؤ‘ میں اس کے ساتھ موج مستی کروں گا۔ ہزار کا دو ہزار دوں گا۔ چلتی پھرتی ہو تو بھی لے آؤ‘ چلے گا۔ اس نے بڑے قہر سے میری جانب دیکھا اور بڑبڑاتا ہوا دوسری جانب نکل گیا۔
میں نے بیوی کا جان بوجھ کر نہیں کہا تھا‘ ایسے بےغیرتوں سے کچھ بعید نہیں‘ شاید لے ہی آتا۔
ڈی سی سر مائیکل جان
المبے قد کا مہنگا ماچھی‘ غربت کی آخری سطع پر تھا۔ جوتے ہیں تو کپڑے نہیں‘ کپڑے ہیں تو جوتے نہیں۔ سارا دن جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر التا‘ رات کو آگ کے سامنے بیٹھتا۔ جب ہی‘ رنگ توے سے زیادہ سیاہ ہو گیا تھا۔ نہاتا بھی شاید ضرورت بری کے بعد تھا۔ اس سے گوڈے گوڈے بو آتی تھی۔ پتا نہیں‘ کیا درک لگی کہ یو کے جا پہہنچا۔ اس کی بیوی صوباں سگھڑ عورت تھی۔ اس نے مہنگے کی کمائی سے‘ جہاں میکے کی بھوک نکالی‘ وہاں گھر کی حالت بھی سنوار دی۔ تین سال میں‘ جھونپڑی نما مکان نے‘ عالی شان کوٹھی کی شکل اختیار کر لی۔ خود اور بچے‘ شان دار کپڑے پہننے لگے۔ شرفا کی خواتین
سے علیک سلیک ہو گئی۔ صوباں‘ صوباں کم‘ میم زیادہ لگتی تھی۔ چوتھے سال دروازے پر تختی آویزاں ہوگئی۔ ڈی سی سر مائیکل جان یو کے گلی نبر چار‘ کوٹ امر ناتھ رام پور خاص چاروں اور باتیں ہونے لگیں۔ یار مہنگا تو سکا ان پڑھ‘ بل کہ ان پاڑ ‘ یو کے میں ڈی سی کیسے ہو گیا۔ آخر اس نے ایسا کون سا کارنامہ انجام دیا ہو گا‘ جس کی پاداش میں اتنا بڑا عہدہ ہاتھ لگ گیا۔ صوباں کی کوئی ایرا غیرا سہیلی نہ رہی تھی‘ جو کچھ دریافت کرتی۔ ان کے ہاں فقط بیگمات کا آنا جانا تھا۔ ہمارے ہاں کسی کی خوش حالی اور ترقی دیکھ کر‘ گھروں اور گلیوں میں‘ بےچینی سی ضرور سر اٹھاتی ہے۔ کسی کی خوش حالی اور ترقی دیکھ کر‘ خوش ہونا‘ ہماری عادت اور فطرت کا خاصہ نہیں۔ کیا ہو سکتا ہے‘ جسے هللا دے‘ اسے زمین پر کون ال سکتا ہے۔ حقی سچی بات یہ بھی ہے کہ اپنی ذات کے گریبوں کی‘ تھوڑی بہت مدد بھی کرتی تھی۔
چار سال بعد‘ مہنگا دو ماہ کے لیے واپس رام پور آیا۔ مہنگا‘ مہنگا کم ڈی سی سر مائیکل جان زیادہ لگتا تھا۔ اس کا رنگ ڈھنگ‘ لباس‘ اٹھنا بیٹھنا‘ ملنا جلنا‘ کھانا پینا‘ غرض سب کچھ بدل گیا تھا۔ انگریزی فرفر بولتا تھا۔ پھنے خاں میڑک پاس بھی‘ اس کے سامنے بھیگی چوہی بن جاتے۔ سب حیران تھے‘ آخر اس کے ہاتھ ایسی کون سی گیدڑ سنگی لگی ہے‘ جو فقط چار سالوں میں‘ مالی‘ شخصی اور اطواری تبدیلیوں کا سبب بنی۔ کچھ تو اس کے پیچھے رہا ہو گا۔ مخبر اپنے کام میں بڑی جان فشانی سے مصروف تھے۔ کب تک معاملہ مخمصے میں رہتا‘ خیر کی خبر آ ہی گئی۔ وہ وہاں دریا پر‘ میموں کے کتے نہالتا تھا۔ ڈی سی مراد ڈوگ کلینر تھا۔ کھودا پہاڑ نکال چوہا‘ وہ بھی مرا ہوا۔ سب کھل جانے کے بعد بھی‘ انڈر پریشر اور احساس کہتری کے مارے لوگ‘ اسے سالم کرتے تھے۔ اسے کیا‘ یہ دھن کو سالم تھا۔
مغرب میں ڈوگ صاحب بہادر وفاداری کے حوالہ سے معتبر اور باعزت نہیں‘ بل کہ کئی ایک ذاتی اور خفیہ خدمات کے تحت‘ نام و مقام رکھتے ہیں۔ یہ تو اچھا ہے‘ مطلب بری کے بعد کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔ گوریاں ڈوگ صاحب بہادر کی بڑی ہی عزت کرتی ہیں۔ اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتی ہیں۔ اسے نہالنے دھالنے والے کو‘ معقول عوضانہ پپش کرتی ہیں۔ دریا کنارے‘ سن باتھ کرنے آئی گوریاں‘ ڈی سی کے حوالے اپنے ڈوگی کر دیتی ہیں۔ ڈی سی تہرا البھ اٹھاتا ہے۔ مختصر چڈی اور بریزئر میں ملبوس پتلی‘ موٹی اور پیپا گوریاں مالحظہ کرتا ہے۔ الکھ حاجی شریف سہی‘ آنکھیں تو بند نہیں کر سکتا۔ بھیگی‘ سیکسی اور رومان پرور مسکراہٹیں وصولتا ہے۔ پاؤنڈ گرہ لگتے ہیں۔ ہمارے ہاں کے لوگ بھی عجیب ہیں‘ گرمیوں میں مری جاتے ہیں۔ پگلے ساتھ گھر والی بھی لے جاتے ہیں۔ اچھا خاصا خرچہ کرتے ہیں۔ گرمیوں میں چار پیسے زیادہ خرچ
کرکے‘ مغرب کے کسی دریا کا رخ کریں۔ پیسے کمائیں اور دوہری ٹھنڈک حاصل کریں۔ ہمارے ہاں کتا گریب کا ہو یا امیر کا‘ وفاداری کے حوالہ سے بلند مقام و مرتبہ رکھتا ہے۔ اگرچہ یہ وفاداری محض ایک دل کو بہالنے کا ذریعہ ہے۔ میر جعفر نے ٹیپو کو اپنی وفاداری کا یقین دال رکھا تھا لیکن اندرخانے بک چکا تھا۔ اپنی وفاداری کے انعام میں‘ ٹیپو سے بھی دو دن پہلے ٹھکانے لگ گیا۔ سیانے چور‘ اپنے ساتھ ہڈی واال گوشت لے کر جاتے ہیں۔ کتا گوشت پر‘ چور سامان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ کتا مالک کا نہیں ہڈی کا وفادار ہوتا ہے۔ رشوت خور کو دیکھ لیں‘ جہاں سے ہڈی ملتی ہے‘ وہاں میرٹ بنا دے گا۔ ایمان کوئی مادی شے نہیں‘ جو اس سے وفاداری نبھائے۔ نوٹ اور ڈبہ نظر آتے ہیں‘ ایمان نظر نہیں آتا۔ کتے کو گوشت نظر آتا ہے‘ مالک نہیں‘ مالک تو
سویا ہوتا ہے۔ مالک رات کو پیٹ بھر کھالتا ہے‘ لیکن کتے کی آنکھ نہیں بھرتی‘ اسی لیے ہڈی اس کی ترجیح میں رہتی ہے۔ میرے کرائےدار سرور کو‘ هللا نے تین پیارے پیارے بچوں سے نوازا۔ اس کی بیوی بیمار پڑ گئی۔ کئی ماہ بیماری سے لڑی‘ لیکن لڑائی ہار گئی۔ میں نے اسے سمجھایا کہ بچوں کا خیال رکھنا۔ اب تم ہی ان کی ماں اور تم ہی ان کے باپ ہو۔ اسے جلد ہی‘ ایک کنوری مل گئی۔ مال‘ پورے ادب و آداب کے ساتھ اس کا ذکر کرتا رہا۔ گن گنوانے میں زمین آسمان ایک کر دیا۔ بچے سکول سے اٹھا لیے گیے ہیں اور ان کے مندے حال ہیں۔ مرحومہ بیماری میں بھی بچوں کا خیال رکھتی تھی۔ کتا کتنا ہی نسلی اور اعلی پائے کا کیوں نہ ہو‘ اس کی وفاداری ہڈی سے مشروط رہتی ہے۔ ڈی سی سر مائیکل جان نے‘ سترہ سال گوریوں کے ڈوگ صاحب بہادران کی نہالئی دھالئی کی۔ اب وہ بوڑھا اور چڑ چڑا ہو گیا تھا۔ اسے ایک ایسے ڈوگ صاحب بہادر سے‘ پاال پڑا جو نچال نہیں بیٹھتا تھا۔ اس نے تاؤ میں آ کر‘ اسے
پان سات جڑ دیں۔ پھر کیا تھا‘ اچھی خاصی مرمت ہوئی‘ جیل بھی گیا۔ جیل کی یاترا کے بعد‘ گھر کی راہ دکھائی گئی۔ اب وہ بےکار اور نکمی شے سے زیادہ نہ تھا۔ گھر میں صوباں تو ایک طرف‘ اس کے نازوں پلے بچے‘ اسے توئے کرتے رہتے۔ غضب خدا کا گھر پر نکما نہیں‘ گھر کا نسلی کتا ٹومی بالناغہ دو ٹائم نہالتا ہے۔ اس کے باوجود‘ بےوقار ہو چکا ہے۔ جس دن نہالنے میں تھوڑا دیر ہو جائے‘ ٹومی غراتا نہیں‘ بھونکتا ہے۔ خدمت یہ کرتا ہے‘ دم گھر والوں یا ان کے ملنے والوں کے سامنے ہالتا ہے۔ ٹومی خوب جانتا ہے‘ خدمت کرنے واال اس کا مالک نہیں‘ تھرڈ کالس نوکر ہے۔ دروازے سے تختی اتر چکی ہے۔ اس کی انگریزی بےاوقات ہو چکی ہے۔ باہر نکلتا ہے تو کل تک سالم کرنے والے‘ مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ اب مہنگا نہیں‘ مہنگو کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔
پرایا دھن
ہنسی مذاق میں‘ احمقانہ گفت گو یا حرکت چل جاتی ہے لیکن سنجیدہ اور دکھ سکھ کے معامالت میں‘ احمقانہ گفت گو یا حرکت کی‘ سرے سے گنجائش نہیں ہوتی۔ بخشو کے بیٹے کا‘ اس کی سگی سالی کی بیٹی سے نکاح ہونے جا رہا تھا۔ شوکے کی ماں اور بہنیں‘ مختلف نوعیت کے شگن کر رہی تھیں۔ وہ سب خوش تھیں۔ بذات خود شوکا بڑا ہی خوش تھا۔ بخشو بھی‘ خوشی خوشی جملہ معامالت انجام دے رہا تھا۔ جوں ہی شوکا سہرہ باندھے‘ گلے میں ماال ڈالے‘ سجی پھبی گھوڑی پر بیٹھنے لگا‘ بخشو نے نیا ہی تماشا کھڑا کر دیا۔ اس نے شوکے کو گلے لگا لیا اور زاروقطار رونے لگا۔ یہ بالکل الگ سے بات تھی اور سمجھ سے باالتر تھی۔ لوگ بیٹوں کی شادی پر خوشیاں مناتے‘ یہ احمق رو رہا تھا۔
پہاگاں حسب سابق اور حسب عادت آپے سے باہر ہو گئی۔ اس دن کچھ زیادہ ہی ہو گئی۔ اس نے بخشو کی بہہ بہہ کرا دی۔ بخشو کے لیے‘ یہ کوئی نئی اور الگ سے بات نہ تھی۔ برداشت کر گیا۔ برداشت کیوں نہ کرتا‘ جھوٹا تھا‘ سب فٹکیں دے رہے تھے۔ خوشیاں غم و غصہ میں بدل گئیں۔ وہ تو خیر ہوئی‘ چاچا فضلو ساتھ تھا۔ اس نے بیچ میں پڑ کر‘ بچ بچاؤ کا رستہ نکال لیا‘ ورنہ جنگ عظیم چہارم کا آغاز تو ہو ہی گیا تھا۔ تمام رسمیں ہوئیں۔ شوکے اور گھر والوں نے‘ جعلی ہنسی اور خوشی میں سب نبھایا۔ ہاں البتہ براتیوں کی ہنسی اور قہقہے قطعی جعلی نہ تھے۔ بخشو نے حرکت ہی ایسی کی تھی‘ آج تک دیکھنے سننے میں نہ آئی تھی۔ دوسری طرف لوگ یہ بھی سوچ رہے تھے کہ بخشو نے ایسا کیا‘ تو کیوں کیا۔ بخشو پاگل نہیں‘ سیانا بیانا اور چار بندوں میں بیٹھنے واال تھا۔ معامالت میں لوگ اس سے مشاورت کرتے تھے۔ اس دن پتا نہیں اسے کیا ہو گیا تھا۔
سب خاموشی اور حیرت میں‘ تمام ہوا۔ دلہن گھر لے آئے۔ شوکے کی ماں اور بہنوں نے نئے جی کے گھر آنے کی خوشیاں منائیں۔ رات دیر گیے تک‘ بخشو پال جھاڑتا رہا۔ جیب ڈھیلی رکھنے کے باوجود‘ چھبتی اور زہرناک نگاہوں کا شکار رہا۔ روٹی پانی تو دور کی بات‘ کسی نے اس کی طرف دیکھنا تک گوارا نہ کیا۔ اس نے بھی خود کو‘ بری طرح نظرانداز کیا۔ سگریٹ پہ سگریٹ پیتا رہا اور دیر تک چارپائی پر کروٹیں لیتا رہا۔ دھوم کا ولیمہ ہوا۔ اچھے خاصے لوگ بالئے گیے تھے۔ خوب وصولیاں ہوئیں۔ کھتونی کے کئی کورے پنے کالے ہوئے۔ تمام خرچے بخشو کی گرہ سے ہوئے‘ لیکن ہر قسم کی وصولیاں‘ پہگاں کے پلے بندھیں۔ اس روز بھی اسے کسی نے پوچھا تک نہیں۔ اس کی حیثیت‘ گرہ دار موئے کتے سے زیادہ نہ رہی تھی۔ شادی گزر گئی‘ لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو گیے۔ صاف ظاہر ہے‘ بخشو کے ساتھ بری ہوئی ہو گی۔ یہ واقعہ دوستوں یاروں میں کئی دن‘ باطور مذاق چلتا رہا اور
پھر گزرے دنوں کی یاد سے زیادہ نہ رہا۔ ہر کوئی فکر معاش میں گرفتار ہے‘ کون معاملے کی کھوج میں پڑتا۔ ایک دن بخشو دوستوں میں بیٹھا ہوا تھا۔ اچھو نے شرارتا اور مذاقا پوچھ ہی لیا۔ یار بخشو تمہیں کیا سوجھی کہ بیٹے کی شادی پر‘ خوش ہونے کی بجائے‘ اس گلے لگا کر باں باں کرنے لگے۔ کتنے احمق ہو تم بھی۔ بخشو جذباتی سا ہو گیا اور کہنے لگا :آج تک سنتے آئے ہیں‘ بیٹیاں پرایا دھن ہیں۔ میں کہتا ہوں یہ غلط ہے‘ بیٹیاں نہیں‘ بیٹے پرایا دھن ہیں۔ میری اماں نے‘ ابا کے ماں باپ بہن بھائی‘ سب چھڑا دیے۔ یہ ہی تائی اماں اور ممانی نے کیا۔ خیر ان کو چھوڑو‘ تم سب بھائی‘ الگ ہو گیے ہو۔ تمہارے بڈھا بڈھی بےچارگی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ کچھ دینا لینا تو دور کی بات‘ زبانی کالمی نہیں پوچھتے ہو۔ شوکا بھی دوسرے ہفتے ہی ہمیں چھوڑ گیا۔ کہاں گیا ماں کا پیار اور ماں کی ممتا۔ وہاں شوکے کی ساس کا آرڈر
چلتا ہے۔ ہر جگہ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ میں بھی‘ چوری چھپے اماں ابا سے ملنے جاتا تھا۔ تم سب اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھو‘ کتنے کو اپنے مائی باپ کے فرماں بردار ہو۔ بہن بھائیوں سے‘ کتنی اور کس سطع کی قربت رکھتے ہو۔ میں کہتا ہوں‘ بیٹیاں نہیں‘ بیٹے پرایا دھن ہیں۔ میرا بیٹا دور ہو رہا تھا‘ کیوں نہ روتا۔ بخشو کی کھری کھری سن کر‘ سب کو چپ سی لگ گئی۔ ایک کرکے سب اٹھ گیے۔ بخشو اکیال ہی رہ گیا۔ یہ معلوم نہ ہو سکا‘ کہ سچ کی کڑواہٹ برداشت نہ کر سکے یا ندامت کا گھیراؤ کچھ زیادہ ہی گہرا ہو گیا تھا۔
ہے نہ کی قیامت
مقصود حسنی
ابوزر برقی کتب خانہ جون 6102